پہلے چرس پی اور پھر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگا دی

پاکستان کے سب سے بڑئے شہر کراچی کی گارمنٹس فیکٹری میں ملزمان نے پہلے چرس پی اور پھر کیمیکل پھینک کر پوری فیکٹری کو آگ لگادی یہ بیان اس واقع کے واحد چشم دید گواہ ارشد نامی شخص نے عدالت میں دیا ہے

تفصیلات کے مطابق 2012 میں پاکستانی صنعتی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہوا تھا جس میں پوری گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگ گئی تھی اور اس دوران 259 لوگ جابحق ہوگے تھے
ابتدائی طور پر آگ لگنے کے واقع کو حادثہ قراردیا گیا تھا بعدذا جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اسے دہشتگردی قرار دے دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کے آگ جان بوجھ کر بھتہ نہ دینے پر ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج کے کہنے پر ملزم ذبیر چریا اور بھولہ سمیت پانچ لوگوں نے لگائی
واقع کے واحد چشم دید گواہ ارشد نے بتایا کہ وہ فیکٹری میں الیکٹریشن تھا اور زبیر چریا ڈپارٹمنٹ کا انچارج تھا واقع کے روز زبیر چریا نے چار نا معلوم لوگوں کو فیکٹری بلوایا اور مجھے یہ کہا کہ میرے مہمان ہیں انھیں واش روم میں لے جائو بعد میں زبیر چریا بھی وہاں آگیا اور سب نے مل کر چرس پی میں نے جاتے ہوئے پیچھے دیکھا تو زبیر چریا نے کمیکل کی بوتل کو اپنی جیب سے نکال کر کپڑوں پر پھینک دی جس کی وجہ سے وہاں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے فیکٹری کے تمام فلورز پر آگ پھیل گئی جو بھی آگ بجھانے کی کوشش کرتا تو زبیر چریا اور اسکے لوگ مزاحمت کرتے بڑہی مشکل سے ہم 20۔25 لوگوں نے اپنی جانیں بچائیں

یاد رہے اس کیس میں رحمان بھولہ پہلے ہی اپنے تمام جرائم قبول کر چکا ہے جسے انٹرپول کی مدد سے بنکاک سے گرفتار کیا گیا تھا ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles