کیا گھر میں کرونا وائرس لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہے؟ نئی تحقیق –


سیئول: جنوبی کوریا کے ماہرین وبائی امراض نے نیا انکشاف کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ لوگ باہر کے رابطوں کی نسبت اپنے گھر ہی کے افراد کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔

اس سلسلے میں جنوبی کوریائی ماہرین نے امریکی ادارے سی ڈی سی کے ذریعے 16 جولائی کو ایک تحقیقی مطالعہ پیش کیا ہے، انھوں نے 5706 ایسے مریضوں کی فہرست مرتب کی جنھیں کرونا وائرس مثبت آیا تھا، تحقیق میں ان 59 ہزار لوگوں کو بھی دیکھا گیا جو مذکورہ مریضوں سے رابطے میں آئے تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ متاثرہ 100 میں سے صرف 2 افراد کو غیر گھریلو رابطوں سے وائرس لگا تھا، جب کہ 10 میں سے ایک نے اپنے ہی کنبے سے یہ مرض لیا تھا۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ عمر کے لحاظ سے گھرانے میں انفیکشن کی شرح اس وقت زیادہ رہی جب ابتدائی تصدیق شدہ کیسز کا تعلق 13 سے 19 سال کے درمیان یا پھر 60 سے 70 سال کے درمیان کی عمر کے لوگوں سے تھا۔

اس کی وجہ کوریا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے ڈائریکٹر جیانگ یون کیانگ نے یہ بتائی کہ ان عمروں کے گروپ والے افراد کا کنبے کے دیگر افراد سے قریبی ربط کا امکان زیادہ ہے، کیوں کہ ان کو تحفظ یا تعاون کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

ہالیم یونی ورسٹی کالج آف میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر چو ینگ جون کا کہنا تھا کہ 9 سال یا کم عمر کے بچے کرونا مریضوں کی اس فہرست میں کم ہی شامل تھے جن کی وجہ سے گھروں میں کرونا وائرس پھیلا۔

کو وِڈ 19 سے متاثرہ بچے بالغ افراد کی نسبت زیادہ تر بغیر علامات کے دیکھے گئے، اس لیے اس گروپ میں یہ نشان دہی مشکل ہو جاتی ہے کہ ان کی وجہ سے کتنے لوگ وائرس کا شکار ہوئے۔

ڈاکٹر چو ینگ جون نے کہا کہ جب ہم کو وِڈ نائنٹین لاحق ہونے کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو پھر ایج گروپ میں فرق کوئی خاص اہم دکھائی نہیں دیتا، بچوں میں وائرس پھیلانے کا امکان کم ہو سکتا ہے، تاہم ہمارے پاس جو اعداد و شمار ہیں وہ اس مفروضے کی تصدیق کے لیے ناکافی ہیں۔

واضح رہے کہ اس طبی تحقیقی مطالعے کے لیے ڈیٹا 20 جنوری اور 27 مارچ کے درمیان اکھٹا کیا گیا تھا، یہ وہ وقت تھا جب کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا تھا اور جنوبی کوریا میں روزانہ سامنے آنے والے کیسز عروج پر پہنچ گئے تھے۔

جنوبی کوریا میں اب 13,879 کرونا کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ وائرس انفیکشن سے ہلاکتیں صرف 297 ہیں۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles