ایاز نے بیش قیمت ہیرا کیوں‌ توڑ دیا؟ –


تاریخ کے اوراق میں جہاں بھی افغانستان اور غزنی کا ذکر آیا ہے، وہیں اس کے حکم راں محمود غزنوی اور اس کے غلام ایاز کا نام اور ان سے متعلق کئی قصے بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔

محمود غزنوی کو ایک پُرعزم اور باہمت بادشاہ کہا جاتا ہے اور تاریخ میں ہے کہ اس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے اور سومنات کا مندر تسخیر کیا۔ اسی لیے محمود غزنوی کو بُت شکن بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے ایک غلام جس کا نام ایاز تھا، کو اپنی ذہانت، قابلیت، فرض شناسی، اور ایمان داری کی وجہ سے ایک طرف محمود غزنوی کا قرب اور اہم عہدہ نصیب ہوا اور دوسری جانب بہت شہرت اور عزت اس کے حصے میں آئی۔

کہتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی اپنے اس غلام ایاز پر اندھا اعتماد کرتا تھا اور ایاز نے بھی ہر موقع پر خود کو اپنے منصب اور سلطان کے اعتماد کا اہل ثابت کیا، لیکن ایاز کی یہ عزت اور توقیر دیکھ کر دوسرے درباری اور وزرا اس سے حسد محسوس کرنے لگے تھے۔

ایک مرتبہ تمام وزرا نے سلطان کو شکایت کی کہ ایاز ایک غلام ہے اور باقی درباری بڑے نام و نسب والے ہیں، ان کے مقابلے میں ایک غلام کی اتنی عزت افزائی مناسب نہیں‌ اور کوئی غلام اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ایسا مقام دیا جائے۔

محمود نے اسی وقت ایک بہت قیمتی ہیرا شاہی خزانے سے منگوایا اور ساتھ ایک ہتھوڑا بھی۔

اب اس نے اپنے ایک عالی نسب وزیر کو بلایا اور ہیرے کو توڑ دینے کا حکم دیا۔ وزیر نے عقل مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

بادشاہ سلامت یہ قیمتی ہیرا ہے اور ریاست کی امانت ہے۔ اس کے ٹوٹنے سے نقصان ہوگا، میرا خیال ہے کہ آپ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی فرما لیں۔

محمود نے اس کی بات سن کر دوسرے وزیر کو بلایا اور وہی حکم دیا۔ اس نے بھی اسی قسم کی بات کی اور خود کو بادشاہ اور قوم کا خیر خواہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔

پانچ وزرا کو یہی حکم دینے اور ان سے اسی قسم کی بات سننے کے بعد سب سے آخر میں محمود نے اپنے غلام ایاز کو بلا کر وہی حکم دیا۔ ایاز نے فورا ہتھوڑا تھاما اور ضرب لگا کر ہیرا توڑ دیا۔

پورے دربار میں شور مچ گیا کہ اس غلام سے عقل و دانش اور بڑی سوچ کی توقع ہی عبث ہے، اس نے اتنا بڑا نقصان کر دیا اور بادشاہ کو کوئی تجویز نہ دی۔ اسے کڑی سزا دینی چاہیے۔

سلطان محمود نے ایاز سے پوچھا کہ اس نے کوئی دلیل اور منطق کیوں‌ نہ پیش کی اور کسی طرح ہیرے کو ٹوٹنے سے کیوں نہ بچایا۔

اس غلام ایاز نے جواب دیا۔ “بادشاہ سلامت! میرے لیے تو آپ کا حکم اس ہیرے سے زیادہ وقعت رکھتا ہے اور آپ جس خواہش کا اظہار کرتے ہیں وہ میرے لیے بیش قیمت ہے۔”

(مختلف تاریخی تذکروں، بادشاہوں اور سلاطین کی سوانح پر مشتمل کتب میں‌ یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے، تاہم اس کی کوئی سند اور مضبوط حوالہ دست یاب نہیں)

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles