سرحدوں پر کشیدگی بڑھانے کا عادی بھارت دباؤ کا شکار کیوں؟ –


کشمیر پر قابض بھارتی فوج کے مظالم، وحشت اور بربریت دنیا کے سامنے ہے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدوں پر بھارتی شر انگیزی اور وہ اقدامات جو اس خطے کا امن و سکون غارت کرسکتے ہیں، ان پر بھی اقوامِ عالم نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آج قوم یومِ استحصال کشمیر منارہی ہے جس کا مقصد کشمیریوں‌ سے یک جہتی کا اظہار اور بھارتی درندگی اور مظالم کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانا ہے۔

درندہ صفت بھارتی‌ کے فوج بدترین مظالم نہ تو کشمیریوں‌ میں جذبہ حریت کو کچل سکے اور نہ ہی آزادی کے لیے ان کی آواز کو دبایا جاسکا ہے، جس نے بھارتی سرکار اور ریاستی غنڈوں کو شدید جھلّاہٹ، دباؤ اور پاگل پن کا شکار کردیا اور یہ ملک اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات اور سرحدی کشیدگی بڑھا رہا ہے۔

حالیہ دنوں‌ میں‌ چین، نیپال، بھوٹان ساتھ تنازعات نے سَر اٹھایا ہے اور سرحدو‌ں پر صورتِ‌ حال کشیدہ ہوئی ہے۔

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی عرصے سے جاری ہے جب کہ حال ہی میں تین سرحدی مقامات پر تصادم ہوئے ہیں جن میں ایک وادی گلوان، دوسرا ہاٹ اسپرنگ کے مقام پر اور تیسرا پینگونگ نامی جھیل کے جنوب کی طرف واقع علاقے میں ہوا جس میں بھارت کی بڑی بدنامی ہوئی۔
یہ تینوں علاقے لداخ میں ہیں، جب کہ ریاست سِکّم کے علاقے ناتھولا میں بھی صورتِ حال کشیدہ ہے۔

ادھر بھوٹان جیسے ایک چھوٹے ملک نے بھی کالا ندی کا پانی روک کر بھارت کی پریشانی بڑھا دی اور یہ اس وقت ہوا جب بھارت کو ایک طرف چین اور دوسری جانب نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع کا سامنا تھا۔

حالیہ دنوں‌ میں‌ نیپال سے بھی بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوئے اور اس ملک نے بھارتی صوبے بہار میں سیلاب کے خدشے کے پیشِ نظر ایک مرمتی کام کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل نیپال نے ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں بعض ایسے علاقوں کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا جنھیں بھارت اپنی ملکیت قرار دیتا ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کی سرحد پر فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles