بھارتی سیاست دان نے بھی جموں و کشمیر کو بڑی جیل قرار دے دیا –


نئی دہلی: مقبوضہ جموں و کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی تائید اب بھارتی سیاست دان بھی کرنے لگے ہیں، بھارتی راجیہ سبھا کے رکن پی چدم برم نے مودی سرکار کو اس سلسلے میں آئینہ دکھا دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے سابق وزیر اور موجودہ رکن راجیہ سبھا پی چدم برم نے دلی سرکار پر کڑی تنقید کی ہے، لکھا 5 اگست کے اقدام سے دلی جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، کچھ بھی حاصل نہ کر سکا۔

سابق بھارتی وزیر پی چدم برم نے ایک آرٹیکل میں کہا ہے کہ 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کی آواز دبانے اور آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا گیا، اور کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔

انھوں نے لکھا کہ مقبوضہ کشمیر ایک بڑی جیل ہے، بنیادی حقوق معطل ہیں، آزادی کے جذبے کو کچلنے کے لیے سیکورٹی آپریشن معمول ہیں لیکن پھر بھی مودی سرکار مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہے۔

ترکی کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت جاری رکھے گا: اردوان کا صدر پاکستان کو فون

پی چدم برم نے لکھا کہ مودی سرکار پانچ اگست کے اقدام سے کوئی نتائج حاصل نہیں کر سکی جو کہ افسوس ناک ہار ہے۔

واضح رہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ، ان لا فل ایکٹیوٹی ایکٹ نافذ ہونے کے بعد مقبوضہ وادی میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشنز جاری ہیں، جب کہ آزاد میڈیا کے لیے کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے، مودی سرکار کے اقدام سے کشمیر ویلی میں 40 ہزار کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے، 4 لاکھ 97 ہزار افراد بے روزگار ہوئے، گزشتہ سال تک سیاحوں کی آمد 3 لاکھ سے اوپر تھی جو کم ہو کر 43 ہزار رہ گئی ہے۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles