کرونا ویکسین کتنے کی ملے گی؟ عالمی معیار کا تعین ہو گیا –


واشنگٹن: امریکا نے کرونا وائرس ویکسین کی قیمت کے لیے عالمی معیار کا تعین کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت نے بدھ کو فائزر اور جرمن بائیوٹک کمپنی کے ساتھ 2 ارب ڈالرز کے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کو وِڈ 19 کی ویکسین کے لیے قیمت کا معیار طے کر لیا ہے۔

صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے قیمتوں کے معیار طے ہونے کا دباؤ دیگر مینوفیکچررز پر بھی پڑے گا کہ وہ بھی یہی قیمتیں مقرر کریں۔

یہ معاہدہ جو ایک منظور ہونے والی ویکسین پر منحصر ہوگا، 5 کروڑ امریکیوں کے لیے ویکسی نیشن کا موقع فراہم کرے گا اور فی امریکی کو ویکسین 40 ڈالر میں پڑے گی، یا اتنے میں جتنے میں وہ سالانہ طور پر فلو ویکسین خریدتے ہیں۔

معاہدے میں دوا ساز کمپنیوں کے فائدے کے حصول کا بھی خیال رکھا گیا ہے کیوں کہ وہ مہلک وائرس سے لوگوں کو بچانے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں جس سے اب تک 6 لاکھ 37 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ویکسینز کے لیے دیگر معاہدوں کے برعکس امریکی حکومت سے فائزر اور جرمن BioNTech تب تک رقم وصول نہیں کریں گی جب تک ان کی تیار کردہ ویکسین وسیع سطح پر کلینکل ٹرائلز میں محفوظ اور مؤثر ثابت نہ ہوں، جس کے بارے میں توقع ہے کہ رواں ماں یہ ٹرائلز شروع ہو جائیں گے۔

امریکا اور دیگر حکومتوں نے اس سے قبل بھی کو وِڈ 19 ویکسین کی تیاری کے لیے معاہدے کیے ہیں، لیکن یہ پہلا معاہدہ ہے جس میں تیار شدہ ویکسین کی مخصوص قیمت کا خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ سینٹر فار میڈیسن پبلک انٹرسٹ کے شریک بانی اور صدر پیٹر پٹس کا کہنا ہے کہ فلو کی ویکسین کی اوسط قیمت 40 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

میجوہو بائیو ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار ومل دیون کا کہنا تھا کہ محفوظ اور مؤثر ہونے کے سلسلے میں جو دیگر بڑی تجرباتی ویکسینز سامنے آئیں گی، ان کے لیے بھی مذکورہ قیمت سے کوئی بہت زیادہ قیمت رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت نے فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کے ٹیکوں کی 100 ملین (دس کروڑ) خوراکیں اس قیمت پر خریدنے پر اتفاق کیا ہے جو 39 ڈالر فی ویکسین بنے گی، اور یہ دو خوارکوں پر مبنی ہوگی، یعنی فی خوراک کی قیمت 19.50 ڈالر پڑے گی۔

ماہرین صحت کا خیال ہے کہ اس وبا کو توڑنے کے لیے ایک مؤثر ویکسین کی ضرورت تو ہے جس نے پوری دنیا میں معیشتوں کو متاثر کیا ہے، لیکن یہ بھی ضرورت ہے کہ یہ ویکسین اربوں لوگوں کے لیے دستیاب ہو، اور دوا ساز اداروں پر اس حوالے سے کافی دباؤ ہے کہ وہ عالمی سطح پر صحت کے بحران کے دوران بڑا منافع کمانے سے گریز کریں۔

ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ فی شخص ویکسین اگر 40 ڈالر پڑتی ہے تو اس سے دوا تیار کرنے والی کمپنیاں بلاشبہ منافع کمائیں گی، اور چند علاقوں میں تو گراس منافع 60 سے 80 فی صد کے درمیان ہوگا، گراس منافع (گراس مارجن) میں ریسرچ اور تیاری کی لاگت شامل نہیں ہوتی، جس کے بارے میں امریکی کمپنی فائزر کا کہنا ہے کہ ان کی ویکسین کے لیے یہ لاگت 1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles