غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ، نیپرا کا شوکاز نوٹس، کے الیکٹرک کو جواب جمع کرانے کا حکم –


اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اضافی بلنگ اور لوڈشیڈنگ کے معاملے پر ‘کے الیکٹرک’ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق نیپرا کی جانب سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس کے متن میں لکھا گیا ہے کہ اضافی بلنگ اور لوڈشیڈنگ کے معاملے پر شوکاز نوٹس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں تیار کیا گیا۔

نیپرا حکام نے کے الیکٹرک کو پابند کیا ہے کہ وہ 15 روز میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرائے، اگر جواب جمع نہ کرایا گیا تو کے الیکٹرک کے خلاف یک طرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور سمجھا جائے گا کہ ادارے کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں ہے۔

شوکاز نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں 12 سے 24گھنٹے تک بجلی معطل رہی، کے الیکٹرک نے بن قاسم پلانٹ 1 کے ساتھ 1 لاکھ 20 ہزار ٹن فرنس آئل ذخیرہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: نیپرا نے عوامی شکایات کے لیے ای میل اکاؤنٹ بنا دیا، عوامی سماعت میں شکایات کے انبار

نیپرا کے شوکاز نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ کےالیکٹرک سسٹم میں مناسب مرمت کر کے 250 میگاواٹ تک اضافی بجلی بنا سکتا ہے، پاورپلانٹس کی مییٹی ننس کیلئے ٹیرف میں 25 ارب روپے دیئےگئے، کےالیکٹرک دسمبر 2019 تک 900 میگاواٹ کا پاور پلانٹ بنانےمیں ناکام رہا جبکہ اُسے پلانٹ کی 73کروڑ ڈالر کی لاگت بھی صارفین کومنتقل کرنےکی اجازت دی گئی۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ماہ جون کیلئے1ماہ پہلےتیل کی حتمی طلب یکم مئی کو آگاہ کرنا ضروری تھا،جس پر عمل نہیں کیا گیا، کے الیکٹرک نے سوئی سدرن کے ساتھ گیس فراہمی کا دیرپا معاہدہ بھی نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کے الیکٹرک کی اوور بلنگ، گورنر سندھ نے تحقیقات کے لیے نیپرا کو خط لکھ دیا

نیپرا کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ  اگر 15 روز میں جواب داخل نہیں کیا گیا تو کے الیکٹرک کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے، جرمانہ اور اضافی جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں مستقل لوڈشیڈنگ کی تحقیقات کے لیے نیپرا کی جانب سے قائم کمیٹی نے دو روز قبل اپنی رپورٹ جمع کرائی تھی جس کی روشنی میں کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles