افسوسناک واقعہ، کرونا کے نام پر حاملہ خاتون کی زندگی سے کھلواڑ –


حیدرآباد: سندھ کے دوسرے بڑے شہر کے سول اسپتال کی انتظامیہ نے کرونا کے نام پر خاتون کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز زائد کلہوڑو کے مطابق حیدرآبادکے علاقے لطیف آباد سے تعلق رکھنے والی خاتون کو اہل خانہ تشویشناک حالت میں ڈلیوری کے لیے سول اسپتال لے کر پہنچے تو گائنی وارڈ میں ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرز اور عملے نے کوئی توجہ نہیں دی۔

اہل خانہ کو ایمبولینس نہ مل سکی تو وہ زچہ کو رکشے میں لے کر اسپتال پہنچے، جہاں سول اسپتال کے ڈاکٹرز نے عملے نے کرونا خدشے کے پیش نظر خاتون کو آدھے گھنٹے تک داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

سول اسپتال کی انتظامیہ نے خاتون کو گائنی وارڈ میں داخل کرنے سے صاف انکار کیا، خاتون رکشے میں آدھے گھنٹے تک موجود رہیں اس دوران اُن کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی، اہل خانہ کی درخواست کے باوجود بھی ڈاکٹرز قریب نہ آئے۔

بعد ازاں گائنی وارڈ کی ماسی نے رکشے میں پردے لگا کر ڈلیوری کی کوشش کی تو خاتون کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں وارڈ منتقل کیا گیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز نے مذکورہ واقعہ پیش آنے کے بعد ایم ایس سول اسپتال سے رابطہ کیا تو اُن کا نمبر بند تھا جبکہ انتظامیہ نے کسی بھی قسم کی وضاحت پیش نہیں کی۔

زائد کلہوڑو نے بتایا کہ سول اسپتال حیدرآباد میں جب سے نئی ایم ایس کو تعینات کیا گیا ہے اُس کے بعد سے معاملات بہت زیادہ خراب ہوگئے ہیں اور روزانہ نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

اس سے قبل سول اسپتال کی انتظامیہ نے تشویشناک حالت میں آنے والے مریضوں کو کرونا ٹیسٹ کے نام پر روکا جس کی وجہ سے کئی لوگوں کی اموات بھی ہوچکی ہیں۔ اسپتال میں کرونا کے  حوالے سے ایک ہی وارڈ مختص کیا گیا جہاں سہولیات ناکافی ہیں، جس کے باعث لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles