پتھروں نے پر غریب کان کن کی زندگی بدل دی –


ڈوڈوما : قیمتی پتھروں نے غریب کان کن کو ایک دن میں امیر بنادیا، تنزانیہ کے باشندے نے پہاڑ سے ملنے والے دو قیمتی پتھر حکومت کو 33لاکھ ڈالر میں فروخت کیے۔

تفصیلات کے مطابق مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والا کان کن دو قیمتی تنزانی یا تنزانائٹ پتھر حکومت کو فروخت کرنے کے بعد راتوں رات کروڑ پتی بن گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 52 برس کے سنونی کوریان لیزر کو یہ پتھر میرارانی پہاڑی علاقے سے ملے جن کا وزن بالترتیب 9.27 اور 5.1 کلوگرام ہے، سنونی کوریان لیزر نے یہ قیمتی پتھرتقریباً 33 لاکھ ڈالرز میں حکومت کو فروخت کیے۔

قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے صدر جان مگوفولی نے 2018 میں اس علاقے میں باڑ لگوائی تھی، تنزانائٹ پہلی بار 1967میں کیلی مانجارو پہاڑی کے دامن میں دریافت ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ شمالی تنزانیہ کے منیارا میں بھی یہ قیمتی پتھر پائے جاتے ہیں۔ ملک میں اس پتھر کی بہت زیادہ مانگ ہے۔

پتھروں کی دریافت سے متعلق ایک تقریب میں کان کنی کے وزیر نے کہا کہ ملک میں اب تک یہ سب سے بڑی دریافت ہے، انہوں نے کہا لیزر ہمارے کروڑ پتی ہے، آئیں اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ محفوظ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس صورتحال سے آگے بڑھ رہے ہیں جہاں چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے کان کن تنزانائٹ کو اسمگل کرتے تھے، اب یہ کان کن حکومتی طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں اور حکومت کو ٹیکس اور رائلٹیز بھی ادا کر رہے ہیں۔

سنونی کوریان لیزر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس رقم سے اپنی کمیونٹی کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔ اس رقم سے آروشا میں ایک مال اور اپنے گھر کے قریب اسکول بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس کامیابی پر خدا کا شکر گزار ہوں اور یہ پہلی دفعہ ہے کہ میں نے اس حجم کے پتھر دریافت کیے، جب مجھے یہ ملے تو میں نے سرکاری افسران کو مطلع کیا، انہوں نے پتھروں کا تخمینہ لگایا اور آج مجھے اس کی ادائیگی کے لیے بلایا گیا۔

حکومت نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ یہ پتھر قومی میوزیم میں رکھے جائیں گے۔ ملک کے صدر نے سنونی کوریان لیزر کو تقریب کے دوران ہی ٹیلی فون پر مبارکباد دی۔

صدر جان مگوفولی کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والوں کے لیے فائدہ ہے اور یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تنزانیہ ایک امیر ملک ہے۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles