تحریک انصاف نےجی بی ایل اے تھری کا بھی میدان مار لیا


گلگت: گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کی تاریخی فتح کا سلسلہ جاری ہے، پی ٹی آئی نے جی بی ایل اے تھری میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق جی بی ایل اے تھری کے تمام پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی غیر سرکاری کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار سہیل عباس 6873 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر محمد اقبال 4678ووٹ لیکر دوسرےنمبرپر رہے۔

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ق لیگ کےکیپٹن (ر)محمد شفیع 4654ووٹ لیکرتیسرے جبکہ پیپلزپارٹی کےآفتاب حیدر3670ووٹ لیکرچوتھےنمبر پر رہے۔

پی ٹی آئی امیدوار سہیل عباس کی کامیابی پر تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنان پارٹی پرچم تھامے گھروں سے باہر نکل آئے، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور خوب نعرے بازی کی، اس موقع پر آتشبازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

پی ٹی آئی کارکنان

جی بھی ایل اے تھری میں پولنگ پی ٹی آئی امیدوار جعفر شاہ کے انتقال کے باعث پولنگ ملتوی کی گئی تھی، پی ٹی آئی نے مرحوم جعفرشاہ کی جگہ ان کے بیٹے سہیل عباس کوٹکٹ دیا تھا، ن لیگ نےذوالفقارعلی اور ق لیگ نےکیپٹن (ر)محمدشفیع کومیدان میں اتارا، پیپلزپارٹی کےصوبائی نائب صدر آفتاب حیدر اس حلقےسے امیدوار تھے اور سابق وزیر تعمیرات محمد اقبال بھی آزاد امیدوارکی حیثیت سے مقابلے میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان حکومت کی تشکیل نو، تحریک انصاف نے تعداد پوری کرلی

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کے لئے تہتر پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے، جن میں مردوں کے31،خواتین کے35اور7مشترکہ پولنگ اسٹیشنز تھے، مجموعی طور پر ڈیڑھ سو پولنگ بوتھ بنائے گئے ، جن میں 81مردوں کےلئےجبکہ 69 خواتین کے لئے مختص کئے گئے تھے، حلقہ نمبر3میں رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد41ہزار360ہے، جن میں مرد ووٹرزکی تعداد 22ہزار341 اورخواتین ووٹرز کی تعداد 19 ہزار 19ہے۔واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے 300 سے زائد امیدواروں نے 23 حلقوں کے لیے انتخابات میں حصہ لیا۔

تحریک انصاف نے 9 امیدواروں کی کامیابی کے ساتھ میدان مارا جبکہ 7 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے، اسی طرح پیپلزپارٹی کے تین، مسلم لیگ ن کے دو امیدوار بھی فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، بعد ازاں چھ آزاد ارکان پی ٹی آئی قافلے میں شامل ہوگئے۔

Comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles