پاکستان میں کورونا کے علاج کیلئے ایک نئی دوا پر تحقیق شروع


لاہور: پاکستان میں کورونا کے علاج کیلئے گنٹھیا کے مریضوں کی دوا پر تحقیق شروع کردی گئی، پروفیسرجاوید اکرم کا کہنا ہے کہ یہ دواکورونامیں پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کو روک سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گنٹھیا کے مریضوں کی دوا کا کورونا کے علاج کیلئے استعمال پر ریسرچ شروع کردی گئی، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور اسپین کی مرسیا یونیورسٹی مشترکہ تحقیق کرے گی۔

گنٹھیا کی دوا کولچیسن کو کورونا کے اسٹینڈرڈ علاج کے ساتھ استعمال کرایا جائے گا، ریسرچ میں اسپینش یونیورسٹی سےپروفیسر اور ڈاکٹر جوزمورسیا شامل ہوں گے جبکہ یو ایچ ایس کی جانب سےپروفیسر جاویداکرم اور پروفیسرندیم افضل ریسرچ کا حصہ ہوں گے۔

پروفیسرجاوید اکرم کا کہنا ہے کہ یہ دواکورونامیں پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کو روک سکتی ہے، ایک ہفتے تک ریسرچ پر کام شروع کردیں گے۔

یوایچ ایس میں ریسرچ کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد ہوا ، جس میں پروفیسرڈومینگوفیگل اورآکسفورڈیونیورسٹی برطانیہ سےڈاکٹرامجد خان کی شرکت
کی۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا  کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کرونا مریضوں کے لیے ڈیکسا میتھاسون کو خوش آئند کہا ہے، برطانیہ میں کرونا وائرس کے انفیکشن میں مبتلا مریضوں میں ڈیکسا میتھاسون سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، یہ کرونا کے خلاف پہلا علاج ہے جس نے کرونا مریضوں میں اموات کی شرح کو کم کیا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا  کہ اس دوا کے استعمال سے کرونا سے اموات میں کمی ہوگی، تاہم پاکستان میں ایکسپریٹ کمیٹی اس دوا کے استعمال پر غور کرے گی، یہ پرانی اور سستی دوا ہے، جس کے پاکستان میں متعدد پروڈیوسرز ہیں۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles