کرونا سے متعلق نیا خطرہ، سائنس دان نے خبردار کردیا


برمنگھم: برطانوی سائنس دان نے خبردار کیا ہے کہ کروناوائرس میں ہونے والی نئی تغیراتی تبدیلی سے مہلک وائرس دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف برمنگھم کے پروفیسر ’نائیک لومن‘ نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ مہلک وائرس میں نئی قسم کی تغیراتی تبدیلی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کرونا میں موجود ’D614G‘ نامی جز میں نئی تغیراتی تبدیل آرہی ہے، یہ صورت حال زیادہ سے زیادہ مہلک وائرس کے پھیلاؤ میں مدد دے رہی ہے، جس سے برطانیہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔

سائنس دان نے کہا کہ وبا میں نئی تبدیلی کرونا ویکسین کی تیاری میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی، کیوں کہ عمومی طور پر مریضوں میں کرونا وائرس اپنی یہ تبدیلی چھوڑتا ہے۔

کرونا وائرس بات چیت سے بھی پھیل سکتا ہے، تحقیق میں انکشاف

مائیک لومن کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس جب ووہان سے شروع ہوا تھا تو اس وقت وبا میں ’D‘ قسم کی تغیراتی تبدیلی دیکھی گئی تھی اور اب ’G‘ قسم کی تبدیلی دنیا بھر میں موجود ہے۔

خیال رہے کہ کرونا سے متاثر ہونے اور مرنے والے افراد کی تعداد میں یومیہ بنیادوں پر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ویکسین کے معاملے میں اب تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آسکی۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles