پودے سے بنائی جانے والی ویکسین تیاری کے مراحل میں –


دنیا کی سب سے بڑی ویکسین بنانے والی برطانوی فارما سیوٹیکل کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کے لیے اپنی ویکسین بوسٹر ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔

دنیا بھر میں ویکسین بنانے کی دوڑ میں شامل اداروں کی طرح جی ایس کے اپنی ویکسین بنانے کے بجائے مختلف اداروں کے ساتھ ویکسین بنانے میں انہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

جی ایس کے نے جن اداروں کے ساتھ اشتراک کیا ہے ان کی تعداد 7 ہے جن میں فرانسیسی فارماسیوٹیکل کمپنی صنوفی اور چینی بائیو فارما سیوٹیکل کمپنی کلوور شامل ہیں۔ کینیڈین بائیو ٹیکنالوجی کمپنی میڈیکیگو بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

میڈیکیگو ایک پودے کے ذریعے ویکسین تیار کر رہی ہے اور جی ایس کے اپنی ویکسین بوسٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے اس ویکسین کی کارکردگی بڑھانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

جی ایس کے کا کہنا ہے کہ مذکورہ ویکسین اگلے سال کے نصف تک تیار ہوجائے گی جبکہ سال 2021 کے آخر تک اس کی 10 کروڑ ڈوزز تیار ہوجائیں گی، ویکسین کے ٹرائلز اسی ماہ سے شروع ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تاحال کسی ویکسین یا دوا کی حتمی منظور نہیں دی گئی، تاہم اب تک دنیا بھر میں 19 ویکسینز اپنی تیاری اور ٹرائلز کے مرحلے میں ہیں۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
loading...

Related Articles